حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، کریم پور، کرناٹک/ مسجد عسکری کریم پور میں امامِ جمعہ حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید وصی حیدر رضوی اعظمی نے خطبۂ جمعہ میں قرآنی تعلیمات کی روشنی میں ظلم و سرکشی کے انجام، ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی، عظمت و مظلومیتِ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور ایامِ فاطمیہ کے پروگرام پر گفتگو کی۔

مولانا سید وصی حیدر رضوی اعظمی نے حالاتِ حاضرہ پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ فرعون، نمرود، شداد اور رضا خان جیسے حکمران جب اپنی طاقت کے عروج پر پہنچے تو بالآخر ان کا اقتدار زوال پذیر ہوا۔ انہوں نے شہیدِ سادس آیت اللہ سید علی خامنہ ای سے منسوب ایک بیان کا مفہوم نقل کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی طاقت اور حکومت ہمیشہ قائم نہیں رہ سکتی۔
ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو طاقتیں ایران میں حکومت کی تبدیلی (رجیم چینج) کی باتیں کر رہی تھیں، آج خود ان کے سیاسی حالات میں تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ قرآن مجید بھی سابقہ قوموں کے واقعات بیان کرتے ہوئے واضح کرتا ہے کہ طاقت اور اقتدار کسی کے لیے دائمی نہیں ہیں۔

اس موقع پر انہوں نے سورۂ آل عمران کی آیت 11 کی تلاوت کی: فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ
انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ انسان کو یہ درس دیتا ہے کہ حقیقی طاقت صرف اسی کی ذات ہے اور کسی حکومت یا حکمران کو اپنی ظاہری قوت پر غرور نہیں کرنا چاہیے۔ ظلم و سرکشی اختیار کرنے والی طاقتوں کا انجام بالآخر زوال ہے۔
مولانا سید وصی حیدر رضوی اعظمی نے خطبۂ اول میں تقوائے الٰہی کی تلقین کرتے ہوئے قرآن مجید کی روشنی میں ان دس گروہوں اور افراد کا ذکر کیا جن پر اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم جہاں انسان کو رحمت و مغفرت کی بشارت دیتا ہے، وہیں ایسے اعمال اور کردار سے بھی خبردار کرتا ہے جو انسان کو رحمتِ الٰہی سے دور کر دیتے ہیں۔

انہوں نے کفر اختیار کرنے اور حق کا انکار کرنے والوں (بقرہ: 89)، حق و ہدایت کو چھپانے والوں (بقرہ: 159)، اللہ اور اس کے رسولؐ کو اذیت پہنچانے والوں (احزاب: 57)، کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرنے والوں (نساء: 93)، منافق مردوں اور عورتوں (توبہ: 68)، بنی اسرائیل میں نافرمانی اختیار کرنے والوں (مائدہ: 78)، شیطانِ رجیم (حجر: 35)، ظالموں (ہود: 18)، پاک دامن اور باایمان عورتوں پر تہمت لگانے والوں (نور: 23) اور اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑنے والوں (رعد: 25) کا ذکر کرتے ہوئے ان کے انجام سے خبردار کیا۔
خصوصاً سورۂ ہود کی آیت أَلَا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ کی تلاوت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ظلم کسی بھی شکل میں ہو، قرآن مجید اس کی سخت مذمت کرتا ہے اور ظالم خواہ کسی بھی زمانے یا معاشرے سے تعلق رکھتا ہو، وہ اس قرآنی وعید کے دائرے میں آتا ہے۔

انہوں نے اہلِ بیت علیہم السلام کی مظلومیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لختِ جگر حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا پر ڈھائے گئے مظالم کو بھی اسی قرآنی اصول کی روشنی میں سمجھنا چاہیے۔
خطبۂ دوم میں مولانا موصوف نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی عظمت و منزلت بیان کرتے ہوئے ان کے مقام و مرتبے سے متعلق رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث کا حوالہ دیا۔ اس سلسلے میں صحیح بخاری، حدیث نمبر 3714، سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 5217 اور جامع ترمذی، حدیث نمبر 3872 کا ذکر کیا۔
انہوں نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مشہور حدیث: فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي، فَمَنْ أَغْضَبَهَا أَغْضَبَنِي
(فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہیں، جس نے انہیں ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا)
بیان کرتے ہوئے سیدۂ کائنات کی عظمت اور ان کی رضا و ناراضی کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ اس موقع پر انہوں نے ایامِ فاطمیہ کی مناسبت سے کریم پور میں آئندہ جمعرات، جمعہ اور سنیچر کو منعقد ہونے والے تین روزہ پروگرام کا اعلان کیا اور مومنین سے اس میں بھرپور شرکت کی اپیل کی۔

خطبۂ جمعہ کے اختتام پر مولانا سید وصی حیدر رضوی اعظمی نے بارانِ رحمت کے نزول، عالمِ اسلام کی سربلندی، ایران کی کامیابی، ظالم و استکباری طاقتوں کے خاتمے، مظلومینِ عالم کی نصرت اور دنیا میں امن و انصاف کے قیام کے لیے دعا کی۔ انہوں نے حضرت امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور میں تعجیل اور پوری دنیا میں عدل و انصاف پر مبنی حکومت کے قیام کی بھی بارگاہِ الٰہی میں دعا کی۔











آپ کا تبصرہ